Breaking News
Home / نطامِ تعلیم / اہم فتاوی جات / وطن اقامت کب بنتا ہے اور کب باطل ہو تا ہے ؟اہم فتوی

وطن اقامت کب بنتا ہے اور کب باطل ہو تا ہے ؟اہم فتوی

الجواب حامدۃٍ و مصلیۃ و مسلمۃ

کسی ایسے شہر میں جو وطن اصلی سے 77 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہو ،15 دن یا اسے زیادہ کی اقامت کی نیت سے ٹیھرا جائے تو وہ وطن اقامت بن جاتا ہے اور وطن اقامت میں پوری نماز پڑھی جاتی ہے۔

جس جگہ انسان محض ملازمت یا روزگار کے لیے رہائش اختیار کرے ،مستقل رہائش اور قیام کی نیت نہ ہو،تو جب ایک دفعہ وہاں پندرہ دن یا اس سے زیادہ کی نیت سے قیام کیا جائے تو اب وہ شہر وطن اقامت بن جائے گا اور پوری نماز پڑھیجائے گی۔اب دوبارہ اس وطنِ اقامت سے اصلی شہر یا شرعی مسافت پر سفر کرنے سے وہ باطل ہوگا یا نہیں؟ اس میں ہمارے اکابر کے دو اقوال ہیں:

پہلا قول یہ ہے کہ :وطن اقامت مطلقاً سفرِ شرعی سے باطل ہو جاتا ہے خواہ وہاں دوبارہ آنے کا ارادہ ہو یا نہ ہو، وہاں اس کا سازو سامان یا اہل و عیال موجود ہوں یا نہ ہوں۔دارالعلوم دیو بند کا حالیہ فتوی یہی ہے ۔

“و یبطل وطن الاقامۃ بمثلہ وبالوطن الأصلي وبإنشاء السفر، والأصل أن الشیء یبطل بمثلہ وبما فوقہ لا بما دونہ”

(الدر المختار مع رد المحتار: ۲/ ۶۱۴، ۶۱۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ۔

دوسرا قول یہ ہے کہ: اگر کسی کا سازو سامان یا اہل و عیال وطن اقامت میں موجود ہوں اور اس کا وہاں دوبارہ لوٹنے کا ارادہ ہو تو اس شہر سے دوسری جگہ سفر کرنے سے وطنِ اقامت باطل نہیں ہوگا ؛جب تک مستقل طور پر وہاں سے منتقل نہ ہو جائے۔

“قال ابن نجیم ؒ: وطن الاقامۃ یبقیی ببقاء الثقل و ان اقام بموضع الاٰخر”

(البحر الرائق ،2/134، باب المسافر)

“۔۔۔ویبطل بمثلہ اذا لم یبقی لہ بالاول اہل ،فلو بقی لم یبطل بل یتم فیھا۔”

(الدر المختار علی الصدر رد المختار:1/584،باب المسافر)

دور حاضر میں حضرت مفتی رشید احمد ؒ،حضرت مفتی عبد الستار صاحب ،حضرت مفتی فرید صاحب اور پاکستان کے اکثر دار الافتاء نے آسانی کی خاطر اسی قول پر فتوی دیا ہے

و اللہ اعلم بالصواب

0Shares

About Mufti Tanvir Ahmed

Check Also

فلمی نکاح اور طلاق کا حکم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے