Breaking News
Home / Uncategorized / رائے ونڈ سبحان اللہ کیسا شاندار اجتماع تھا

رائے ونڈ سبحان اللہ کیسا شاندار اجتماع تھا

                            سبحا  اللہ یہ کیسا اجتماع (رائے و ڈ)        مفتی تویراحمدڈھر ال 

رائے و ڈ سالا ہ اجتماع میں ہر سال پاکستا ن سمیت پوری د نیا سے لاکھوں مسلما ن شریک ہوتے ہیں جس میں دعوت وتبلیغ اور حضور بی پاک ﷺ کی س ت پر عمل پیرا ہو ے کے حوالے سے بزرگ علمائے کرام کے قیمتی صائح اور بیانات ہوتے ہیں اور اجتماعی دعا کے بعد پاکستا ن سمیت د نیا بھر میں جماعتوں کی تشکیل کی جاتی ہے۔جو اپنامال،جان،وقت لگا کر پوری د نیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرتے ہیں۔ایسے اجتماعات اور بیا نات ہدایت کے سر چشمے ہیں۔جس سے لاکھوں لوگوں کی ز ند گیاں سیراب ہو کر تبدیل ہو جاتی ہیں،ایسے اجتماع میں شریک ہو کر لاکھوں کے مجمع کے ساتھ باجماعت ماز پڑھ ا، ماز کے ثواب کو لاکھوں گ ا بڑھا دیتا ہے۔ایسے اجتماعات ج میں ہر ر گ، سل،زبا،قوم،خا دا ،بستی،علاقہ،شہر اور ملک کے لوگ صرف اللہ اور اس کے پیارے حبیب حضرت محمدﷺکی محبت میں جمع ہوتے ہیں اللہ تعالی کو بڑے محبوب ہیں اور بڑے اجر وثواب کا ذریعہ ہیں جیسا کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ سات ب دے کل قیامت کے د اللہ تعالی کے عرش کے سائے کے یچے ہوں گے ا میں ایک وہ دو آدمی بھی ہوں گے ج میں اللہ کی محبت میں اجتماع ہوتا ہے اورجدائی بھی اللہ کی محبت میں ہوتی ہے،اسی طرح ایک اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ا ورر ﷺ ے فرمایا کہ قیامت کے د اللہ جل شا ہ بعضی قوموں کا حشر اس طرح فرمائیں گے کہ ا کے چہروں میں ور چمکتا ہوگاوہ موتیوں کے م بروں پر ہوں گے،لوگ ا پر رشک کرتے ہوں گے وہ ا بیا ء اور شہداء ہیں ہوں گے،کسی ے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ا کا حال بیا کر دیجیے کہ ہم ا کو پہچا لیں؟تو حضور ﷺ ے فرمایا وہ لوگ ہوں گے جو اللہ کی محبت میں مختلف گھروں سے،مختلف خا دا وں سے،آکر ایک جگہ جمع ہوں گے اور اللہ کے ذکر میں مشغول ہوں گے (کذافی الطبرا ی والمشکوۃ) اس اجتماع کا آ کھوں دیکھا حال ایک عرب عالم الشیخ صالح ب علی ے اپ ے ملک کے مفتی اعظم عبدا لعزیز ب عبداللہ ب باز کو رپورٹ کی صورت میں پیش کیا،اس کے خط کے چ د الفاظ پیش خدمت ہیں ”جب ہم رائے و ڈگئے جہاں سالا ہ اجتماع م عقد کیا جاتا ہے وہ خوب صورت اجتماع جسے دیکھ کر دل میں خشوع پیدا ہوتا ہے اور آ کھیں ڈر،خوشی اور اللہ تعالی کے خوف سے بارش کی طرح آ سو بہاتی ہیں۔یہ اجتماع اہل ج ت کے اجتماع سے مشابہ ہے جہاں ہ کوئی شوروغل تھا اور ہ کوئی تکلیف، ہ کوئی فضول بات، ہ لاقا و یت اور ہ جھوٹ، ہ کوئی بدبو ہ کوئی گ دگی ہر چیز ذہا ت وسلیقہ سے ترتیب دی ہوئی تھی صاف ستھرا ماحول تھا۔ ہ ٹریفک پولیس ہ عام پولیس اور ہ کوئی چوکیدار،ایک فطری اورپاکیزہ ز دگی ہے جہاں ہر سمت اللہ کی ذکر کی فضا پھیلی ہوئی ہے۔۔۔اللہ کی قسم یہ ایک ایسا اجتماع ہے جس سے دل ز دہ اور ایما چمکتا اور اس میں اضافہ ہو تا ہے۔کت ا بارعب اور کت ا خوب صورت اجتماع ہے جو آپ کے سام ے صحابہ کرام،تابعی اور تبع تابعی کی بولتی ہوئی تصویر پیش کرتا ہے۔ہر طرف آپ کو مح ت،علم،ذکر،میٹھی گفتگو،خوب صورت اعمال،ایما اور علم سے چمکتے ہوئے چہرے ملیں گے۔آپ کی گاہ ایسی چیزوں پر پڑے گی ج سے آپ کو خوشی ہو گی اور دل باغ باغ ہو جائے گا ایسے عظیم الشا اجتماع کو دیکھ کر میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ کاش اس طرح کا اجتماع مملکت سعودیہ میں بھی م عقد ہو“۔ اللہ تعالی اس اجتماع کو پورے عالم کے لئے ہدایت کا سبب ب ا دے۔آمی

0Shares

About Mufti Tanvir Ahmed

Check Also

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے