Breaking News
Home / Uncategorized / دو جنازے ایک ساتھ یا الگ الگ پڑھے جائیں

دو جنازے ایک ساتھ یا الگ الگ پڑھے جائیں

آپ نے پوچھا۔۔جواب پیش خدمت ہے۔پڑھیے اور شیئر کیجیے۔۔۔۔
سوال۔۔۔اگر دوجنازے ہوں ایک مرد کا اور دوسرا عورت کا تو کیا ان کے جنازے ایک ساتھ پڑھیں گے یا الگ الگ؟
محمد سعادت۔۔۔۔۔تلہ گنگ
الجواب ۔۔۔ دونوں جنازے خواہ دونوں مرد ہوں یا دونوں عورت ہوں یا ایک مرد اور دوسری عورت اگر ایک ساتھ پڑھ لیے جائیں تو جائز لیکن افضل یہ ہے کہ دونوں جنازے الگ الگ پڑھے جائیں۔۔۔
اگر ایک مرد کا جنازہ اور ایک. عورت کا تو اس کے امام کے آگے رکھنے کی ترتیب یہ ہوگی کہ پہلے امام کے آگے مرد کا جنازہ اور پھر اس کے پیچھے عورت کا جنازہ رکھاجائے گا۔۔۔
وإذا اجتمعت الجنائز فإفراد الصلاة علی کل واحدة أولی من الجمع وتقدیم الأفضل أفضل وإن جمع جاز (درمختار)
(۱) الفتاوی الھندیۃ : ۱/۱۶۵۔
(۲) الجامع للترمذی، حدیث نمبر : ۱۰۲۴ ۔
’’ إن شاء صلی علیھم دفعۃً وإن شاء صلی لکل جنازۃ صلاۃ علی حدۃ ۔۔۔ وإن اختلف الجنس وضع الرجل بین یدی الإما م ۔۔۔ ثم المرأۃ ‘‘(۱)
واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم
کتبہ۔۔۔تنویراحمد دارالافتاء اہل السنت والارشاد ڈھرنال۔۔تلہ گنگ

0Shares

About Mufti Tanvir Ahmed

Check Also

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے