Breaking News
Home / اِنتخاب سوشل میڈیا پوسٹس / سورج گرہن کی ظاہری۔سائنسی اور شرعی حیثیت
نماز کاطریقہ اور حاملہ عورت پر اثر نہ ہونے کا تفصیلی بیان۔۔۔از✍🏻مفتی تنویر۔۔۔پڑھیے اور شیئر کرتے جائیے۔۔۔

سورج گرہن کی ظاہری۔سائنسی اور شرعی حیثیت
نماز کاطریقہ اور حاملہ عورت پر اثر نہ ہونے کا تفصیلی بیان۔۔۔از✍🏻مفتی تنویر۔۔۔پڑھیے اور شیئر کرتے جائیے۔۔۔

سورج گرہن کی ظاہری۔سائنسی اور شرعی حیثیتنماز کاطریقہ اور حاملہ عورت پر اثر نہ ہونے کا تفصیلی بیان۔۔۔از✍🏻مفتی تنویر۔۔۔پڑھیے اور شیئر کرتے جائیے۔۔۔🗣محکمہ موسمیات کے مطابق26دسمبر بروز جمعرات صبح 7:34بجے سے لے کر 10:10بجے تک سورج گرہن ہوگا۔ پاکستان میں1999کے 20سال بعد سورج گرہن دیکھا جا سکے گا۔پاکستان کے ساحلی علاقوں کراچی اور گوادر وغیرہ میں تقریبا اسی فی صد سورج چاند کے پیچھے چھپ جائے گا اور دن کو رات کا سا اندھیرا نظر آئے گا۔پاکستان کے باقی علاقوں میں بھی دیکھا جاسکے گا۔☀سورج گرہن کی ظاہری حقیقت۔سورج گرہن کی ظاہری حقیقت علم الفلکیات کے مطابق یہ ہے چاند سورج اور زمین کے درمیان آجائے جس کی وجہ سے سورج کا کچھ یا سارا حصہ چھپ جائے۔🕋سورج گرہن کی اصل حقیقت۔۔سورج گرہن کی اصل اور شرعی حقیقت وہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کی وفات پر بیان فرمائی جب کچھ لوگ یہ کہنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے حضرت ابراھیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی وجہ سے سورج گرہن ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سنا تو ارشاد فرمایا بے شک سورج اور چاند اللہ تعالی کی قدرت کی نشانیوں میں۔سے ایک نشانی ہے۔کسی کی زندگی اور موت کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں لیکن اللہ تعالی اس کے ذریعے بندوں کو ڈراتا ہے۔(صحیح بخاری)🕋 اسی طرح بخاری شریف میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں جب ایک دفعہ سورج گرہن ہوا تو آپ قیامت آجانے کے خوف سے گھبرا کرکھڑے ہوئے اور مسجد آئے اور اتنے زیادہ لمبے قیام رکوع وسجدے والی نماز پڑھی کہ اس سے پہلے میں نے ایسی نماز آپ کو پڑھتے نہیں دیکھا.آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ نشانیاں ہیں جنہیں اللہ پاک بھیجتے ہیں کسی کی زندگی اور موت کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔لہذا جب تم یہ نشانیاں دیکھو تواللہ کا ذکر دعا اور استغفار کی پناہ لو۔🕋ایک اور روایت میں ہے کہ ایسے وقت میں اللہ کاذکر۔اللہ کی بڑائی (اللہ اکبر کہو) نماز پڑھو اور صدقہ دو۔۔۔🕋 جب رسول اللہﷺ کے زمانے میں سورج کو گرہن لگا تو یہ اعلان کیا گیا،( اَلصَّلٰاۃُ جَامِعَۃ)ٌ ’’لوگو ! نماز کھڑی ہونے والی ہے۔‘‘ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) 🕋 نبی اکرمﷺ کے زمانے میں سورج بے نور ہوگیا تو آپﷺمسجد میں آئے ،اور کھڑے ہوکر تکبیر کہی۔ لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں۔(صحیح بخاری،صحیح مسلم) ۔🕋 رسول اللہﷺنے فرمایا:سورج اور چاند دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اور کسی کی موت و حیات سے ان میں گرہن نہیں لگتا بلکہ اللہ ان کو گرہن کرکے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔(صحیح بخاری: 1048) 🕋 نبی اکرمﷺنے نماز کسوف کے بعد لوگوں کو خطبہ دیا اور اسی خطبہ میں لوگوں کو ہدایت فرمائی کہ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ مانگیں۔(صحیح بخاری :1050) 🕋حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو نماز کسوف کے سجدے سے لمبا سجدہ کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ۔(صحیح بخاری: 1051)
،اس موقع پر نماز ادا کرنا ہمارے نبی اکرم ﷺ کا طریقہ ہے جس پر بہت کم لوگ عمل کرتے ہیں۔
سورج گرہن کی نماز
📜📜📜📜📜📜📜
نماز کسوف: جب سورج گرہن ہو تو اس موقع پر نماز پڑھنا سنت موکدہ ہے جس کو نماز کسوف سورج گرہن کی نماز کہتے ہیں نماز کسوف تنہا پڑھنا بھی جائز ہے لیکن مردوں کے لیے نماز کسوف عیدگاہ یا جامع مسجد میں باجماعت پڑھنا زیادہ افضل ہے ۔۔اس نماز کے لیے اذان۔اقامت ۔خطبہ نہیں ہوگا ۔اگر لوگ جمع نہ ہوں تو الصلوة جامعة کہ نماز کھڑی ہونے والی ہے یا اس جیسے لفظ کے ساتھ لوگوں کو اکٹھا کیا جاسکتا ہے۔اس نماز کی کم ازکم دورکعت اور چار رکعت پڑھنا افضل ہے ۔یہ نماز عام۔نوافل کی طرح پڑھی جائے گی۔البتہ اس خوب لمبی قرات جسے سورة بقرہ جیسی سورتیں اور لمبا رکوع اور لمبے سجدے کیے جائیں گے۔ پھر سوال کیا جاتا ہے کہ
باجماعت نماز میں قرآت کیسے کی جائے گی آہستہ آواز سے یا بلند آواز سے؟تو اس بارے میں فقہاء احناف کا اختلاف ہے
امام اعظم ابوحنیفہ رح کے نزدیک آہستہ آواز میں اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے ایک قول کے مطابق بلند آواز سے قرآت کی جائے گی۔احادیث پاک میں دونوں طرح کی روایات ملتی ہیں اس لیے جس پر عمل کرے درست ہے البتہ علامہ ابن عربی رح اور علامہ ظفر احمد عثمانی صاحب رح کا رجحان بلند آواز سے قرآت کی طرف ہے۔جامعہ دارالعلوم کراچی کے فتوی میں بھی اس پر عمل کرنے کا کہا گیا ہے اس لیے بلند آواز سے قرآت کرے ۔لمبے رکوع اور سجود کرے۔جب نماز سے فارغ ہو تو خوب لمبی دعا مانگے جب تک سورج اچھی طرح روشن نہ ہو اور گرہن ختم نہ ہو۔
ہرقسم کی توہمات سے بچے۔حاملہ عورت کے حوالے سے جتنی باتیں مشہور ہیں سب لچر۔بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔سائنسی ۔شرعی اعتبار سے ان کی کوئی حیثیت نہیں۔۔اس لیے نارمل رہے حاملہ عورت یا اس کے بچے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔۔ واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم
کتبہ ۔۔✍🏻مفتی تنویراحمد
جامعہ فاطمة الزہراء ؓللبنات ڈھرنال
مزید ایسی فتاوی جات کے لیے وزٹ کریں۔www.jfdmuftitanvirdhurnal.com ۔
0Shares

About Mufti Tanvir Ahmed

Check Also

خود کشی کا بھیانک انجام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے