Breaking News

آپ نے پوچھا۔شرعی جواب وفتوی حاضر ہے!!!!!!!👇👇 بندوق ۔پستول اور ائیر گن سے کیا ہوئے شکار کا حکم جامعہ دارالعلوم کراچی کا فتوی۔۔۔📜📜📜📜📜 خلاصہ یہ کہ تکبیر پڑھ کر تیر کی نوک جیسے نوک دار چھرے سے کیا ہوا شکار ذبح سے پہلے مرگیا تو حلال(تیر کی مشابہت کی وجہ سے) اور تکبیرپڑھ کے گول منہ والے چھرے سے کیا ہوا شکار کو ذبح کرنا ضروری ہے اگر ذبح سے پہلے مرگیا توحرام۔ www.jfdmuftitanvirdhurnal.com دارالعلوم کراچی کا فتوی ملاحظہ فرمائیں۔۔۔۔ گولیوں کے ذریعے کیے ہوئے شکار میں شرعاً کچھ تفصیل ہے اور وہ درج ذیل ہے : گولی کی دو قسمیں ہیں : گولی کی پہلی قسم : جو محدد اور نوک دار نہ ہو جیسے پستول کی گولی ہو یا گول چھرے والا کار توس،اس سے کئے ہوئے شکار کے بارے میں علماء کرام کا اختلاف ہے بعض علماء کرام نے اسے حلال کہاہے ۔لیکن جمہور احناف کا قول یہ ہے کہ اس سے کیا ہو اشکار حلال نہیں لہذا جب تک شرعی طریقہ سے اس کو ذبح نہ کیاجائے اس سےا جتناب کرنا لازم ہے ۔ ( ب) گولی کی دوسری قسم : جو محدد اور نوک دار ہو جیسے کلاشنکوف ، جی تھری اور تھری ناٹ تھری وغیرہ کی گولی یا نوک دار چھرےوالا کارتوس اس میں چونکہ زخم کھولنے اور “خزق ” یعنی چھید کر پارہونے کی صلاحیت موجود ہے لہذا یہ بھی آلات جارحہ میں داخل ہو کر اس کا حکم تیر ہی کا حکم ہے اور اس سے کیاہوا شکار بالاتفاق حلال ہے ۔یعنی اگر ” بسم اللہ “پڑھ کر چھوڑی جائے اور شکاری کے پہنچنے سے پہلے جانور اس کے ذریعے مر جائے تو وہ حلال ہوگا ، کما ھو حکم السھم فی عامۃ الکتب ( تبویب :203/80) واللہ اعلم بالصواب احقر شاہ محمد تفضل علی دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی 5 رمضان المبارک 1436 ھ مطابق 15جولائی 2013

Recent Posts

واہ میرے اللہ تیری کیا شان تخلیق ہے۔۔۔۔۔

سبحان اللہ ماہرین طب کے مطابق مرد کے ایک اختلاط کے دوران 30 کروڑ سپرم خارج ہوتے ہیں، یہ 30 کروڑ سپرم مکمل انسان ہوتے ہیں‘ عام نارمل مرد میں پانچ ہزار اختلاط کی صلاحیت ہوتی ہے‘ آپ پانچ ہزار کو 30 کروڑ سے ضرب دیں آپ یہ جان کر …

Read More »